Life in UK
نافذ

Skilled Worker ویزا: جدید غلامی کے متاثرین اب ظالم آجروں کو چھوڑ سکتے ہیں

شائع شدہ

Home Office نے قوانین بدل دیے ہیں۔ اب Skilled Worker ویزا رکھنے والے جن لوگوں کو باقاعدہ طور پر جدید غلامی کا شکار تسلیم کر لیا جائے، وہ اپنے سپانسر کے پابند نہیں رہتے اور ویزا کی باقی مدت میں کوئی بھی قانونی کام کر سکتے ہیں۔ یہ تبدیلی 9 اکتوبر 2026 سے نافذ ہے، یعنی اعلان کے دن سے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ متاثرین اپنی امیگریشن حیثیت کو خطرے میں ڈالے بغیر ظالم آجروں کو چھوڑ سکتے ہیں۔

کس پر اثر ہے
Skilled Worker ویزا رکھنے والے وہ لوگ جنہیں باقاعدہ طور پر جدید غلامی کا شکار تسلیم کیا گیا ہو
نافذ ہونے کی تاریخ
9 اکتوبر، 2026

کیا تبدیل ہوا ہے

9 اکتوبر 2026 سے Skilled Worker ویزا پر جدید غلامی کے متاثرین اپنی امیگریشن حیثیت کو خطرے میں ڈالے بغیر ظالم آجروں کو چھوڑ سکتے ہیں۔

جب کسی شخص کو باقاعدہ طور پر جدید غلامی کا شکار تسلیم کر لیا جائے تو وہ کسی مخصوص سپانسر کا پابند نہیں رہتا۔ وہ ویزا کی باقی مدت میں کوئی بھی قانونی کام کر سکتا ہے۔

اس تبدیلی سے پہلے، جو متاثرین کسی ظالم سپانسر کو چھوڑتے تھے ان کے لیے اپنی امیگریشن حیثیت اور آمدن دونوں کھونے کا خطرہ ہوتا تھا۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ Skilled Worker ویزا رکھنے والوں کو سرکاری فنڈز تک رسائی نہیں ہوتی۔

  • یہ ان لوگوں پر لاگو ہوتا ہے جو Skilled Worker روٹ پر ہیں اور جنہیں باقاعدہ طور پر جدید غلامی کا شکار تسلیم کیا گیا ہے
  • جیسے ہی Home Office انہیں تسلیم کر لے، وہ اپنے سپانسر کو چھوڑ سکتے ہیں
  • وہ ویزا کی باقی مدت میں کوئی بھی قانونی کام کر سکتے ہیں

کون متاثر ہوتا ہے

یہ تبدیلی پورے Skilled Worker روٹ کے کارکنوں پر لاگو ہوتی ہے۔ Home Office کے مطابق اس میں کیئر ورکرز اور دوسرے لوگ شامل ہیں جو نیک نیتی سے برطانیہ آئے مگر بدنیت آجروں نے ان کا استحصال کیا۔

ماخذ میں دوسرے ویزا روٹس کے بارے میں کچھ نہیں بتایا گیا۔

آپ کو کیا کرنا چاہیے

اعلان میں کارکنوں کے لیے کوئی اقدامات نہیں بتائے گئے۔ مکمل تفصیلات کے لیے نیچے دیا گیا سرکاری صفحہ پڑھیں۔

پس منظر

Home Office کا کہنا ہے کہ یہ جدید غلامی اور بدنیت آجروں سے نمٹنے کے وسیع تر کام کا حصہ ہے۔ Immigration White Paper کے ذریعے حکومت نے وعدہ کیا ہے کہ سپانسر شدہ کارکنوں کے لیے آجر بدلنا آسان بنایا جائے گا۔

اس حکومت کے اقتدار میں آنے کے بعد سے 6,600 سے زیادہ سپانسرز بیرون ملک سے کارکن بھرتی کرنے کا اپنا لائسنس کھو چکے ہیں۔ ان میں سے 4,400 سے زیادہ نے جون 2026 کو ختم ہونے والے سال میں لائسنس کھویا، جو پچھلے سال کے مقابلے میں 140% اضافہ ہے۔ جہاں جرم کے شواہد ہوں گے وہاں سپانسرز کو پولیس کے حوالے کیا جائے گا۔

اکثر پوچھے جانے والے سوالات

سرکاری ذرائع

یہ خلاصہ اوپر دیے گئے سرکاری ذرائع سے خودکار طور پر تیار کیا جاتا ہے اور ان سے ملا کر چیک کیا جاتا ہے، پھر بھی اس میں غلطی ہو سکتی ہے۔ یہ قانونی مشورہ نہیں ہے۔ درخواست دینے سے پہلے ہمیشہ GOV.UK پر تفصیلات کی تصدیق کریں۔